اتوار 15 فروری 2026 - 08:00
قرآنی تعلیمات کی روشنی میں دوسروں کا احترام

حوزہ/ آج اگر ہمارے معاشروں میں نفرت، عدم برداشت اور بدکلامی بڑھ رہی ہے تو اس کی بنیادی وجہ قرآن کے اخلاقی اصولوں سے دوری ہے۔ احترامِ انسانیت کوئی اضافی وصف نہیں بلکہ اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے۔ جب تک ہم دوسروں کی عزت کو اپنا دینی فریضہ نہیں سمجھیں گے، نہ فرد محفوظ ہوگا اور نہ معاشرہ مہذب۔

تحریر: مولانا فدا حسین ساجدی

حوزہ نیوز ایجنسی I آج کے پُرآشوب اور اخلاقی تنزلی کا شکار معاشرے میں سب سے بڑی کمی اگر کسی چیز کی ہے تو وہ انسانی احترام ہے۔ اختلافِ رائے ہو یا فرقِ فکر، مذہب ہو یا مسلک، زبان ہو یا رنگ—ہم نے ہر اختلاف کو نفرت میں اور ہر تفاوت کو تحقیر میں بدل دیا ہے۔ ایسے میں قرآنِ مجید کی طرف رجوع محض ایک دینی تقاضا نہیں بلکہ ایک اجتماعی اور اخلاقی ضرورت بن چکا ہے، کیونکہ قرآن انسان کو انسان سمجھنے اور انسان کی حیثیت سے برتاؤ کرنے کا درس دیتا ہے۔

قرآنِ مجید سب سے پہلے انسان کی عزت و تکریم کو ایک آفاقی اصول کے طور پر بیان کرتا ہے: ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾ “اور بے شک ہم نے اولادِ آدم کو عزت و شرف عطا کیا” (سورۃ الاسراء، 17:70)

یہ اعلان اس حقیقت پر مہر ثبت کر دیتا ہے کہ انسان کی عزت کسی قوم، عقیدے یا کردار کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے انسان ہونے کی وجہ سے ہے۔ چنانچہ کسی بھی انسان کی تحقیر دراصل اللہ کی عطا کردہ عزت کی نفی ہے۔

قرآن نہ صرف جسمانی یا قانونی ظلم سے روکتا ہے بلکہ زبان کے زخموں کو بھی ظلم قرار دیتا ہے۔ چنانچہ تمسخر، طعن، عیب جوئی اور تحقیر کو کھلے الفاظ میں ممنوع قرار دیا گیا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ﴾ “اے ایمان والو! کوئی قوم کسی دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے” (سورۃ الحجرات، 49:11)

یہ آیت ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ ممکن ہے جسے ہم حقیر سمجھ رہے ہوں، وہ اللہ کے نزدیک ہم سے بہتر ہو۔ یہی احساس انسان کو عاجزی اور احترام کی راہ پر قائم رکھتا ہے۔

اختلافِ عقیدہ انسانی معاشروں کا لازمی حصہ ہے، مگر قرآن اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کی اجازت نہیں دیتا۔ حتیٰ کہ غیر مسلموں کے معبودوں کے بارے میں بھی بدزبانی سے روکا گیا: ﴿وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ﴾ “اور ان کو برا بھلا نہ کہو جنہیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں” (سورۃ الانعام، 6:108)

یہ قرآنی اسلوب ہمیں سکھاتا ہے کہ احترام صرف ہم خیال لوگوں کے لیے نہیں بلکہ اختلاف رکھنے والوں کے لیے بھی لازم ہے۔

قرآن انسانی گفتگو کو شائستگی اور نرمی کا پابند بناتا ہے: ﴿وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾ “اور لوگوں سے اچھی بات کہا کرو” (سورۃ البقرہ، 2:83)

یہ حکم صرف زبان کی نرمی نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی، نیت کی درستی اور رویّے کی تہذیب کا مطالبہ ہے۔ ایک مسلمان کا لہجہ اس کے ایمان کی پہچان ہونا چاہیے۔

اسلام نے نسلی، خاندانی اور طبقاتی تفاخر کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور عزت کا ایک ہی معیار مقرر کیا:

﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾

“اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے” (سورۃ الحجرات، 49:13)

یہ آیت انسان کو انسان کے برابر لا کھڑا کرتی ہے اور ہر قسم کی برتری کے خود ساختہ بت توڑ دیتی ہے۔

آج اگر ہمارے معاشروں میں نفرت، عدم برداشت اور بدکلامی بڑھ رہی ہے تو اس کی بنیادی وجہ قرآن کے اخلاقی اصولوں سے دوری ہے۔ احترامِ انسانیت کوئی اضافی وصف نہیں بلکہ اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے۔ جب تک ہم دوسروں کی عزت کو اپنا دینی فریضہ نہیں سمجھیں گے، نہ فرد محفوظ ہوگا اور نہ معاشرہ مہذب۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کا پیغام محض عبادت گاہوں تک محدود نہیں بلکہ انسانی رویّوں کی اصلاح کا منشور ہے۔ دوسروں کا احترام دراصل اپنے ایمان، اپنے اخلاق اور اپنی انسانیت کا احترام ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha